خروج کی کتاب کی پہلے باب میں ہم نے سیکھا کہ کال کے دوران حضرت یعقوب کے خاندان کے ستر لوگ ملک مصر آئے۔ چار سو سے زائدبرس وہاں مقیم رہتے ہوئے حضرت یوسف اور اس کے سب بھائی اور اُس پشت کے سب لوگ مر مٹے۔ اور اسرائیل کی اولاد برومند، کثیر التعداد، فراوان اور نہایت زور آور ہو گئی اور وہ مُلک اُن سے بھر گیا۔حضرت یوسف کو فوت ہوئے تین سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا تھا۔ پھر ایک اور فرعون ملکِ مصر پر حکومت کرنے لگا۔ یہ وہ بادشاہ تھا جو یہ بھول گیا کہ حضرت یوسف نے مصر کے لوگوں کے لیے کیا کیا کِیا۔ اُس بادشاہ نے اسرائیلیوں کو غُلام بنا کر بُری طرح سے دبایا اور ستایا۔ اُس نے اسرائیلیوں سے انتہائی سخت کام کروایا اور ان کی نسل کشی کی بھی کوشش کی۔