رسولوں کے اعمال کے تیسرے سے پانچویں ابواب میں یروشلیم میں روح القدس کے وسیلہ سےسیدنا یسوع مسیح کی جاری خدمت کا بھرپُور اور نہایت واضح اظہار ملتا ہے۔ اگرچہ سیدنا مسیح آسمان پر جلال کے ساتھ خدا باپ کے داہنے ہاتھ بیٹھ چکے ہیں مگر اُن کا کام ختم نہیں ہوا بلکہ اب وہ روح القدس کے ذریعہ رسولوں کے وسیلہ سے زمین پر اپنی خدمت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ رسولوں کے اعمال کے تیسرے سے پانچویں ابواب میں یروشلیم میں کلیسیا کی ترقی اور مخالفت کا جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ ابتدائی کلیسیا کی روحانی قوت اور دُنیاوی ردِعمل دونوں کو نہایت واضح طور پر آشکار کرتا ہے۔ یہ ابواب پنتکست کے بعد کلیسیا کی ابتدائی عملی پیش رفت کو بیان کرتے ہیں جہاں روح القدس کی قدرت نہ صرف معجزات کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے بلکہ کلام کی بے خوف منادی کے وسیلہ سے ہزاروں دلوں کو سیدنا مسیح کی طرف مائل کرتی ہے۔ تیسرے باب میں ہیکل کے خوبصورت دروازہ پر لنگڑے آدمی کی شفایابی محض جسمانی معجزہ نہیں بلکہ قیامت یافتہ سیدنا مسیح کی جاری خدمت کا ثبوت ہے جس کے نتیجے میں مقدس پطرس کی تبلیغ اور توبہ کی دعوت اسرائیلی قوم کے لیے براہِ راست چیلنج بن جاتی ہے (اعمال19:3)۔ چوتھے اور پانچویں ابواب میں یہی خوشخبری شدید مخالفت کو جنم دیتی ہے۔ صدرعدالت کی دھمکیاں، گرفتاریوں اور پابندیوں کے باوجود رسول یہ اعلان کرتے ہیں مگر پطر س اور یُوحنّا نے جواب میں اُن سے کہا کہ تُم ہی اِنصاف کرو ۔ آیا خُدا کے نزدِیک یہ واجِب ہے کہ ہم خُدا کی بات سے تُمہاری بات زِیادہ سُنیں۔کیونکہ مُمکِن نہیں کہ جو ہم نے دیکھا اور سُنا ہے وہ نہ کہیں۔ “ (اعمال 20:4)۔ ہم اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ کلیسیا کی ترقی ہمیشہ مخالفت کو جنم دیتی ہے مگر یہ مخالفت خدا کے منصوبے کو روک نہیں سکتی بلکہ اکثر اوقات اُس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پانچویں باب میں حننیاہ اور سفیرہ کا واقعہ اندرونی پاکیزگی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہےجبکہ قید سے فرشتے کے ذریعے رُسولوں کی رہائی اور گملی ایل کی نصیحت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کلیسیا کی حفاظت انسانی حکمت نہیں بلکہ الٰہی قدرت کے تحت ہے۔ یوں یہ ابواب ابتدائی کلیسیا کی اُس زندہ گواہی کو پیش کرتے ہیں جس میں معجزات ، منادی، پاکیزگی اور دلیری ایک ساتھ مل کر یروشلیم میں خدا کی بادشاہی کو مضبوطی سے قائم کرتے ہیں۔