Current Status

Not Enrolled

Price

مفت

Get Started

 رُسولوں کے اعمال کے دسویں، گیارہویں اور بارہویں ابواب میں غیر قوموں تک خوشخبری کی رسائی کلیسیا کی تاریخ میں ایک نہایت فیصلہ کن اور انقلابی مرحلے کی نمائندگی کرتی ہےجس کے ذریعے خُدا کے نجاتی منصوبے کی عالمگیریت پوری وضاحت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ ان ابواب میں مقدس لوقا یہ دکھاتے ہیں کہ خوشخبری اب محض یہودی دائرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ خُدا خود اپنی حاکمانہ مداخلت کے ذریعے اس دیوار کو گرا دیتا ہے جو یہودی اور غیر قوم کے درمیان حائل تھی (اعمال 28:10؛ 18:11)۔ کرنیلیس جیسے غیر قوم افسر کی بلاہٹ، مقدس پطرس کو دیا جانے والا رویا اور روح القدس کا غیر قوموں پر نازل ہونا اس بات کی واضح گواہی ہے کہ نجات فضل کے وسیلہ سے ایمان پر مبنی ہے نہ کہ شریعت یا نسلی امتیاز پر (اعمال 35،34:10، 44–48)۔ اعمال گیا رہویں باب  میں یروشلیم کی کلیسیا کے سامنے اس واقعہ کی توثیق یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ تبدیلی انسانی اجتہاد نہیں بلکہ خُدا کے مقرر کردہ منصوبے کا حصہ تھی۔ اعمال بارہویں باب میں اگرچہ ہیرودیس کی ایذا رسانی کلیسیا کے خلاف شدت اختیار کرتی ہے مگر مقدس پطرس کی معجزانہ رہائی اور ہیرودیس کا انجام یہ اعلان کرتا ہے کہ خُدا کی بادشاہی کو کوئی انسانی طاقت روک نہیں سکتی اور” خُدا کا کلام  ترقی کرتا  اور پھیلتا گیا “ (اعمال 24:12)۔ یوں یہ ابواب کلیسیا کو یہ سکھاتے ہیں کہ خوشخبری ہر قوم، ہر زبان اور ہر شخص کے لیے ہے اور خُدا خود اپنی قدرت اور حکمت سے اپنے عالمگیر مقصد کو پورا کرتا ہے۔

Course Content

تعارف 1 Quiz
Lesson Content
غیر قوموں کے لیے خوشخبری کی تیاری 1 Quiz
غیر قوموں میں خوشخبری کے لئے رویا 1 Quiz
کُرنیلیس کے آدمی یافا میں 1 Quiz
مقدس پطرس کرنیلیس کے گھر 1 Quiz
غیر قوموں پر روح القدس کا نزول 1 Quiz
انطاکیہ کی کلیسیا 1 Quiz
مسیحی محبت کا عملی اظہار 1 Quiz
کلیسیا پر مزید سخت ایذارسانی 1 Quiz
پطرس کی قید سے معجزانہ رہائی 1 Quiz
ہیرود یس کی موت 1 Quiz
حاصل کلام 1 Quiz
Lesson Content