رسولوں کے اعمال کی کتاب کا پہلا باب کلیسیا ئی تاریخ میں ایک نہایت فیصلہ کن اور بنیاد ساز دور کا تعارف کراتا ہے۔ یہ باب درحقیقت اناجیل اور کلیسیائی خدمت کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں زمینی خدمت کا اختتام اور آسمانی قدرت کے ظہور کی تیاری نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ یہ باب ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا اپنے کام کو جلدبازی میں نہیں بلکہ الٰہی ترتیب، وعدے اور انتظار کے ذریعے آگے بڑھاتا ہے۔کلیسیا کے آغاز سے قبل روحانی تیاری کا ایک نہایت اہم مرحلہ ہے۔ اس باب میں خُداوند یسوع مسیح کی قیامت کے بعد کی خدمت، اُن کا آسمان پر اُٹھایا جانا، روح القدس کے وعدے، شاگردوں کی دعا اور انتظاراور ایک رسول کے تقرر کا بیان ملتا ہے۔ یہ باب واضح کرتا ہے کہ کلیسیا کی خدمت انسانی طاقت سے نہیں بلکہ زندہ مسیح کے وعدے اور روح القدس کی قدرت سے شروع ہوتی ہے، اور یہی آسمانی تیاری رسولوں کے اعمال کی پوری کتاب کی بنیاد ہے۔