
رسولوں کے اعمال کے چھٹے اور ساتویں ابواب خادمانہ قیادت اور پہلی بڑی ایذا رسانی کے عنوان کے تحت ابتدائی کلیسیا کے اُس نازک مگر فیصلہ کن مرحلے کو نمایاں کرتے ہیں جہاں روح القدس کی رہنمائی میں خدمت کی تنظیم اور گواہی کی قیمت دونوں واضح ہو جاتی ہیں۔ اعمال باب6 میں خادموں (ڈیکنز) کی تقرری اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ روحانی ترقی محض معجزات اور منادی تک محدود نہیں بلکہ انتظام، حکمت اور دعا و کلام کی ترجیح سے وابستہ ہے تاکہ کلامِ خدا بِلا رکاوٹ پھیلتا رہے۔ اسی سیاق میں مقدس مقدس ستفنس کی گواہی اور شہادت (اعمال 7) خادمانہ قیادت کی روحانی گہرائی کو عیاں کرتی ہے جہاں خدمت انتظامی ذمہ داری سے بڑھ کر حق کی بے خوف گواہی بن جاتی ہے خواہ اس کی قیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔ یوں یہ ابواب کلیسیا کو سکھاتے ہیں کہ خادمانہ قیادت کا ثمر اکثر مخالفت اور ایذا رسانی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے مگر خدا اپنے نجاتی منصوبے کو اسی قربانی کے ذریعے وسعت دیتا ہے اور خوشخبری کو نئی سرحدوں تک پہنچاتا ہے۔