رسولوں کے اعمال کے تیرہویں اور چودہویں ابواب میں مقدس پولُس رسول کے پہلے بشارتی سفر کا بیان ابتدائی کلیسیا کی عالمی وسعت اور روح القدس کی راہنمائی کو نہایت واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ سفر اِنسانی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ اِنطاکیہ کی کلیسیا میں دعا، روزہ اور رُوح القدس کی ہدایت کے تحت شروع ہوا جہاں مقدس برنباس اور ساؤل کو خاص طور پر غیر قوموں کے لیے الگ کیا گیا (اعمال3-1:13)۔ یہ مرحلہ اعمال کی کتاب میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے کیونکہ اب خوشخبری یروشلیم اور یہودی حلقوں سے نکل کر باقاعدہ طور پر غیر قوموں کی دنیا کی طرف بڑھتی ہے۔ اسپہلے سفر میں انجیل کی منادی کے ساتھ ساتھ شدید مخالفت، ایذارسانی اور انکار بھی سامنے آتا ہے مگر ہر جگہ خدا کا کلام قوت کے ساتھ اثر انداز ہوتا ہے اور نئی کلیسیائیں قائم ہوتی ہیں ۔ یوں مقدس پولُس کا پہلا بشارتی سفر اِس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ خدا کا منصوبہ مشکلات کے باوجود آگے بڑھتا ہے اور رُوح القدس کے ذریعے کلیسیا کو ایک عالمگیر مشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مسیح کی نِجاتی خوشخبری زمین کی انتہا تک پہنچے۔