
مقدس لوقا کی انجیل کے ابواب 22 اور 23 انجیل کے سب سے سنجیدہ اور مقدس لمحات بیان کرتے ہیں جیسے کہ کامل انسان سیدنا یسوع مسیح سے غداری، مقدمہ اور ان کی صلیبی موت۔ لوقا 22 باب میں مذہبی رہنما سیدنا یسوع مسیح کی موت کی سازش کرتے ہیں اور یہوداہ اسکر یوتی سیدنا یسوع مسیح کا شاگرد ان کو دھوکہ دیتا ہے۔ آخری فسح یعنی عشائے ربانی میں سیدنا یسوع اپنے شاگردوں کے لیے یادگار کے طور پر عشائے ربانی قائم کرتے ہیں جو محبت کا ایک نشان ہے۔ گتسمنی کے باغ میں وہ شدید کرب اور غم کا سامنا کرتے ہیں مگر پورے طور پر باپ کی مرضی کے تابع رہتے ہیں جس سے اُن کی کامل اطاعت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد سیدنا یسوع مسیح کو یہودی عدالت، پیلاطس، اور ہیرودیس کے سامنے غیر قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں انسانی عدالت مکمل طور پر ناکام ہو جاتی ہے مگر سیدنا یسوع جو بے گناہ اور پاک ہیں خاموش اور بے عیب کھڑے رہتے ہیں۔ اس سے پیشتر مقدس پطرس کا انکار انسانی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جب کہ سیدنا مسیح کی خاموشی اور وقار الٰہی کمال کو نمایاں کرتے ہیں۔ لوقا 23 باب میں جب سیدنا یسوع صلیب کی طرف لے جائے جاتے ہیں وہ یروشلیم کی روتی ہوئی عورتوں کو دلاسا دیتے ہیں، صلیب پر بھی اپنے دشمنوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور توبہ کرنے والے ڈاکو سے فردوس کا وعدہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر میگی اس منظر کو خوبصورت انداز میں "آسمانی محبت کا زمینی گناہ سے ملاپ” کہتے ہیں۔ آخرکار کامل انسان اپنی روح باپ کے ہاتھوں میں سونپ دیتا ہے اور اس طرح وہ ایک بے بس شہید کے طور پر نہیں بلکہ ایک فاتح نجات دہندہکے طور پر موت قبول کرتا ہے، جس نے خدا کے منصوبۂ نجات کو پوری طرح مکمل کر دیا۔